نئی دہلی،24 ؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کیرل میں سیلاب سے 20 ہزار کروڑ کے نقصان کا اندازہ ہے۔کیرالہ حکومت نے 2000 کروڑ روپے جلد سے جلد جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے؛ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ مرکز کی طرف سے کیرل حکومت کو اب تک محض 600 کروڑ روپے ہی ملے ہیں، گویا اونٹ کے منھ میں زیرا ڈالنے کا ’’فعل نیک‘‘ انجام دیا گیا ہے۔
کیرل کے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نریگا کے تحت 26 ہزار کروڑ کی علاحدہ مانگ کرے گی۔ ادھر ریاستی حکومت نے سیلاب میں برباد ہوئے گھروں کی مرمت کے لئے ایک لاکھ تک لون دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعلی کے دفتر کی طرف سے اس بارے ٹویٹ کیا گیا ہے۔حکومت سیلاب سے برباد ہوئے ہوئے گھروں کی مرمت کے لئے لون دینے کی سوچ رہی ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے اطلاع دی ہے کہ گھر کی خاتون رہنما کو دیئے جانے والے ایک لاکھ تک کے لون پر سود نہیں لگے گا اور یہ سود حکومت بھرے گی ۔کیرالہ کے سیلاب زدگان کے لئے امدادی سامان ٹرینوں کے ذریعے بھی بھیجا جا رہا ہے۔پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے کیرالہ کے طالب علم اور کئی رضا کار شامل ہیں ۔طالب علم ریلیف کا سامان ٹرینوں پر لوڈ کرنے میں بھی مدد کر رہے ہیں۔
کیرالہ میں سیلاب کو لے کر متحدہ عرب امارت کی 700 کروڑ کی مدد بھارت لے یا نہ لے اسے لے کر بھارت میں بات چیت چل رہی ہے۔لیکن ہندوستان میں عرب امارات کے سفیر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کی جانب سے اب تک مدد کے لئے سرکاری طور پر کوئی رقم طے ہی نہیں کی گئی ہے۔
انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق البانا نے کہا کہ سیلاب کے بعد اب حالات کا جائزہ لے کر کتنی مدد کی جائے اس کا اندازہ لگایا جا رہا ہے اور آخری رقم پر ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔اس ہفتے کے آغاز میں کیرل کے وزیر اعلی نے کہا تھا کہ ابو ظہبی کے شہزادہ شیخ محمد بن زائد نے نریندر مودی کے ساتھ بات چیت میں 700 کروڑ کی مدد کی تجویز دی تھی۔
وہیں سی پی ایم کے ایم پی محمد سلیم نے کہا کہ صرف سی پی آئی اور کیرالہ کے لوگ نہیں، بلکہ پورے ملک کے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر آپ کے پاس بیرونی ممالک کی جانب سے مالی مدد کے عدم قبول کی گنجایش ہے تو پھر کم از کم اس صورتحال میں اپنی طرف سے کچھ کرنا چاہئے۔مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ جو بھی اصول ہوگا اس کے تحت ہر ممکن مدد کی جائے گی ؛لیکن کیرل کے لوگوں کو دقت نہیں ہوگی۔